1 نومبر 2020 - 13:04
 انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ہفتہ وحدت بمناسبت عید میلاد النبیؐ کی تقریبات کا آغاز

نبی اکرمؐ کی سیرت کاملہ کو دنیائے بشریت کیلئے نجات ابدی اور امن، انصاف اور انسانیت کا دستور العمل قرار دیتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ بحیثیت انسان کامل نبی اکرمؐ کی ذات مقدسہ اپنے انسانیت اور حیات ساز اوصاف حمیدہ کے تناظر میں بلا لحاظ مذہب و ملت تمام قوموں کیلئے باعث فرحت و رحمت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ہفتہ وحدت بمناسبت عید میلاد النبیؐ کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ سیرتی محافل و مجالس کا یہ سلسلہ 17 ربیع الاول تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں امام بارگاہ گلشن باغ بٹہ کدل سرینگر میں حسب عمل قدیم ایک پروقار محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا جس میں انجمن شرعی شیعیان کے شعبہ تعلیم جامعہ باب العلم سے منسلک دینی مکاتب کے ہزاروں طلباء و طالبات کے علاوہ عاشقان رسولؐ کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ محفل میلاد سے کئی علمائے دین اور مفکرین نے خطاب کیا۔ جن معززین نے سیرت النبیؐ کے حوالے سے اپنے بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا ان میں مولانا مولوی خورشید احمد قانون قانونگو (صدر انجمن حمایت الاسلام)، حجت الاسلام سید محمد صفوی وغیرہ شامل ہیں۔

اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے خاتم النبیین حضور سرور کائناتؐ کے یوم ولادت کی فضیلت اور آپؐ کی سیرت و عظمت کے کئی گوشوں کی وضاحت کی۔ نبی اکرمؐ کی سیرت کاملہ کو دنیائے بشریت کیلئے نجات ابدی اور امن، انصاف اور انسانیت کا دستور العمل قرار دیتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ بحیثیت انسان کامل نبی اکرمؐ کی ذات مقدسہ اپنے انسانیت اور حیات ساز اوصاف حمیدہ کے تناظر میں بلا لحاظ مذہب و ملت تمام قوموں کیلئے باعث فرحت و رحمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضورؐ کے توحیدی مشن سے اختلاف اور دشمنی کے باوجود آپؐ کے جانی دشمنوں نے آپؐ کی راست گوئی، امانت داری، رحم دلی، انصاف و انسانیت پسندی، جذبہ احترام انسانیت اور تقویٰ شعاری کا برملا اعتراف کیا۔

آغا حسن نے کہا کہ اسلام دشمن قوتوں نے ہمیشہ دین اسلام کی حقانیت اور پیغمبر اسلامؐ کی عظمت سے خائف ہوکر توہین رسالت کے حربے بروئے کار لائے اور آج بھی ایک منصوبہ بند عالمی سازش کے تحت توہین رسالت کے مذموم واقعات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ مسلمان مشتعل ہوکر انتہائی اقدامات کی طرف راغب ہوجائیں اور استکباری قوتوں کے اس بے بنیاد اور زہر آلود پروپگنڈے کو تقویت مل سکے کہ اسلام ایک دہشتگرد دین ہے اور مسلمان ایک دہشتگرد قوم ہے۔

آغا حسن نے کہا کہ توہین رسالت کے ان بڑھتے سانحات کے سدباب کیلئے دنیائے اسلام کے تمام اکابرین اور اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ایک موثر لایحہ عمل مرتب کرنا چاہیے۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت اور فرانسیسی صدر کے گستاخانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ یہ حرکات مسلمانوں کو بھڑکانے کی ایک دانستہ کوشش اور احترام بین المذاہب کے عالمی اصولوں کی سراسر خلاف ورزی  ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲